


صدیوں سے عربی زبان کو آسان شکل میں پیش کرنے کی ضرورت تھی تاکہ غیر مقامی لوگ گرائمر میں زیادہ سر کھپائے بغیر عربی بولنا سیکھ سکیں۔ جس طرح مینڈرین (پرانی چائنیز زبان) بہت مشکل تھی تو اس کیلئے پِھن یِن (انگلش حروف تہجی کے ساتھ نئی چائنیز زبان) کو متعارف کرایا گیا تاکہ باہر کے لوگوں کے لیے سیکھنا آسان ہو جائے. پرانے روایتی طریقوں کو چھوڑ کر اللہ کے فضل کے ساتھ کئی سال کی لگاتار کوشش کے بعد پوری دنیا کے لئے اس مشکل فریضہ کو ہم نے انجام دیا ہے
ہمارے ساتھ عربی سیکھنے کا نیا طریقہ کیا ہے؟

تسھیل شدہ نصاب
اس کورس کے اندر استعمال ہونے والے تمام افعال اور جملوں کو رومن یعنی انگلش حروف تہجی میں منتقل کیا گیا ہے عربی کا ایک حرف نہ جاننے والا بھی اس کورس کو آسانی سے کر سکتا ہے

کم پیچیدگی
ہمارے اس نصاب میں صرف و نحو کے پیچیدہ قواعد نہیں دیے گئے بہت کم گرائمر استعمال کی گئی ہے جو کل گرامر کا صرف دس پرسنٹ بنتا ہے

ضرورت کی ہر چیز
اس کورس میں استعمال ہونے والا ہر لفظ اور فعل سینکڑوں غیرملکیوں کو 12 سال کے پڑھانے کے تجربے میں منتخب کیا گیا ہے

انوکھی تکنیکس
ہمارا انداز دوسروں سے بالکل الگ ہے. ہم نے بالکل صفر سے شروع کرنے والے ایک عام آدمی کے لئے اپنی منفرد تکنیکس کے ذریعے اس کورس کے نصاب کو سمجھنا اور استعمال کرنا آسان بنا دیا ہے

بہت کم عربی سیکھنے والے جانتے ہیں کہ عربی کی 3 اقسام ہیں ۔ اور اگر آپ عربی بول چال سیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کو کونسی عربی کی ضرورت ہے؟

روایتی عربی
روایتی عربی میں مکمل گرائمر کا استعمال ہوتا ہے اور یہ زیادہ تر پڑھنے اور لکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ صرف نیوز ریڈرز اور جمعہ کے خطبات روایتی عربی میں دیے جاتے ہیں اس کا کئی سال سیکھنا بھی بول چال والی عربی میں فائدہ مند نہیں

بول چال والی عربی
تمام عرب ممالک میں بول چال والی عربی بات چیت کے لیے مختلف لہجوں کے ساتھ استعمال ہوتی ہے جس میں گرائمر کی ضرورت کم ہوتی ہے ہمارے اس کورس میں سعودی عام لہجہ کروایا جاتا ہے جو اصل عربی کے بہت نزدیک ہے

ٹوٹی پھوٹی عربی
ٹوٹے پھوٹے فقروں سے بنی اس غلط عربی پر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جسے یہاں آنے والے پڑھے لکھے اور ان پڑھ انڈین پاکستانی اور بنگلہ دیشی اپنی عزت کا خیال کئے بغیردھکا لگانے کے لئے استعمال کرتے ہیں
عربی گرائمر میں صَرْف و نَحْو کیا ہے؟ اور عربی میں بات چیت کے لئے ہمارے اس کورس میں اس کی کتنی ضرورت ہے؟
عِلْمُ الصَّرْف
عِلْمُ الصَّرْف وہ علم ہے جس کے ذریعے ہمیں مختلف زمانوں اور شکلوں میں تبدیل ہونے والے افعال اور اسماء کی پہچان حاصل ہوتی ہے اور ان کو ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ اس علم کے ذریعے ہمیں عربی زبان کے الفاظ کو درست طریقے سے پڑھنا آ جاتا ہے
اس کورس میں عِلْمُ الصَّرْف کے بیس فیصد بنیادی قواعد کو لیا گیا ہے جو درست طریقے سے جملہ بنا کر بولنے کے لیے کافی ہیں
عِلْمُ النَّحْو
عربی کا عِلْمُ النَّحْو وہ علم ہے کہ جس میں اسم و فعل و حرف کو جوڑ کر جملہ بنانے کی ترکیب اور ہر کلمہ کے آخری حرف کی حالت معلوم ہو روایتی عربی میں ہر لفظ کے آخری حرف کی آواز کو واضح طور پر کہنا لازمی ہے۔ عِلْمُ النَّحْو عربی گرامر کا بہت پیچیدہ اور پھیلا ہوا جُز ہے
عِلْمُ النَّحْو کا صرف پانچ فیصد اس کورس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے پیچیدہ گرائمر کو سائیڈ پر کرتے ہوئے اسے سادہ طریقے سے لیا گیا ہے
ہمیں بول چال والی عربی میں افعال کی زیادہ مشق کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟
عربی زبان میں افعال کے لیے پہلے سے طے شدہ مخصوص شکلیں (وزن فعل) ہیں۔ اور ہمیں ہر فعل کو اس کی متعلقہ شکل کے ساتھ ہی استعمال کرنا چاہیے۔ کسی فعل کو اس کی متعلقہ شکل کے بغیر استعمال کرنا روایتی عربی اور بولی جانے والی عربی دونوں میں بڑی غلطی سمجھا جاتا ہے۔ لہذا ہمیں درست جملہ بنانے اور بولنے کے لیے ان اشکال (وزن فعل) کو سمجھنے اور یاد کرنے کی ضرورت ہے۔
افعال کے لیے پہلے سے طے شدہ مخصوص شکلیں
افعال عربی زبان میں اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ ایک سے زیادہ عناصر کی تعریف کرتے ہیں جیسے واحد/جمع، مذکر/مونث، حاضر غائب، زمانہ اور کوئی کام۔ مثال کے طور پر جب ہم عربی زبان میں کہتے ہیں 'کتب' (اس نے لکھا) تو یہ ایک لفظ واحد، غائب، مذکر، زمانہ ماضی، اور اس کے مطلب 'لکھنا' ان مختلف پانچ کو ایک لفظ میں بیان کرتا ہے
ایک فعل ہمیں ایک جملے کے بارے میں پانچ چیزیں بتاتا ہے
ضروری اسماء و حروف کے ساتھ ساتھ اس کورس میں چار سو سے زیادہ عام استعمال کے افعال کا انتخاب کیا گیا ہے جیسے لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، کہنا، سننا، کام کرنا، بیٹھنا، کھڑا ہونا وغیرہ۔ لیکن ابتداء میں ان تمام چار سوکی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم صرف پچاس افعال سے شروع کرتے ہیں۔ اور یہ منتخب افعال ہمیں وزن فعل کو سمجھنے اور یاد کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
پچاس افعال کے ساتھ آپ تمام اشکال سمجھ سکتے ہیں
ہمارے کورسز
(ریکارڈ شدہ) CHAT
کسی عرب کے سامنے اس کے اپنے لہجہ کے مطابق بولا جانے والا ایک اچھا جملہ اس کے موڈ کو خوشگوار کر سکتا ہے. اس کورس میں وکیبلری کے دو ہزار الفاظ کے علاوہ ضرورت کے ایسے 600 جملے ہیں جن میں سے آدھے بھی آپ اپنے استعمال میں لے آئیں تو سعودی عرب میں آپ کی زندگی بہت آسان ہو سکتی ہے
فرِی کورس 101 زبان میں
یہ عام استعمال ہونے والے بنیادی عربی جملے ہیں جو مقامی لہجہ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ پوری دنیا سے آنے والے زائرین کے لیے ان جملوں کا 101 زبانوں میں ترجمہ کر دیا گیا ہے۔ ایک سو پچاس ممالک سے تعلق رکھنے والے اورچھیالیس مختلف زبانیں بولنے والے والے ہزاروں افراد اس کورس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ یہ مواد کسی عرب ملک کا دورہ کرنے والے لوگوں کے لیے کافی فائدہ مند ہے۔
وَن ٹُو وَن کمپلیٹ سپیکنگ ٹریننگ
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ عربی سیکھ کر بولنے کے سارے عمل میں استاد ہر وقت آپ کے ساتھ رہے. آپ کورس کیسے لیں گے؟ شروع سے آخر, اور پھر کورس ختم ہونے کے بعد عرب سے بات چیت کے دوران آنے والے مسائل کا حل یہ سب اس وَن ٹُو وَن پروگرام کا حصہ ہے. اس طریقہ کار میں جو چیز آپ کی جھجھک کم کرنے اور بات چیت میں جلد روانی کا سبب بنتی ہے وہ استاد کی ہمہ وقت رہنمائی ہے, جس میں خاص طور پر کورس کے دوران اور بعد میں آپ کا اپنی ضرورت کے جملے خود بنانا اور ان کو عرب کے ساتھ استعمال کرنا ہے اوراسی کو کسی بھی بول چال والے کورس کا بنیادی ہدف کہا جاسکتا ہے. اس طریقہ کار میں ہر نیا سبق آپ کو واٹس ایپ کے ذریعے چھوٹی آڈیو اور ویڈیوز کی شکل میں بھیجا جاتا ہے جسے آپ روزانہ کی بنیاد پر استاد کے ساتھ مشق کر کے یاد کرتے ہیں بوقت ضرورت ویڈیو کال کے ذریعے نئی چیزوں کو ڈسکس کیا جاتا ہے. کورس کا دورانیہ تین مہینے کا ہے کورس ختم ہونے کے بعد مزید تین مہینے میں عملی طور پر کورس کی مشق کرتے ہوئے آپ استاد سے تعاون حاصل کرتے ہیں. اس پروگرام میں آمنے سامنے کی کلاسز شامل نہیں اور پوری فیس ایڈوانس میں مکمل ادا کرنا ضروری ہے
(ریکارڈ شدہ) SAFT
میں نے 2010 میں ریاض سعودی عرب میں عربی زبان کے کورسز کروانا شروع کیے اس وقت میں خود تو مقامی لہجے میں بہت اچھی عربی بولتا تھا مگر لوگوں کو گرامر والی عربی سکھاتا. لوگ احتجاج کرتے کہ ہمیں وہ عربی سکھائیں جسے ہم دفتر, بازار یا مختلف اداروں میں عرب کے ساتھ بول سکیں. گرامر والی عربی کو لوگوں کی ضرورت کے مطابق بول چال والی عربی میں ڈھالنے کا سفر سات آٹھ سال جاری رہا جس میں یکے بعد دیگرے مختلف نیشنلٹی کے لوگوں کو گروپس کی شکل میں یہ کورس کرواتا رہا. 2018 کے آخر میں دو سٹوڈنٹ جو کورس کرنا چاہتے تھے ان کے ساتھ میں نے اس کورس کو ایسی شکل میں ریکارڈ کیا کہ جس میں زیادہ سے زیادہ سوالوں کے جواب دیے جائیں اور میرا بنایا ہوا کورس پوری طرح سے کور ہو جائے. اس کورس کے ساتھ تمام مواد فراہم کیا گیا ہے جیسے ورک بک اور مختلف پیپرز جسے آپ کبھی بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں. کورس خریدنے کے تین مہینے کے دوران مجھے ڈائریکٹ واٹس اپ پر کوئی بھی سوال کر سکتے ہیں. اس کورس کی تیس دن کی گارنٹی کے اندر آپ کبھی بھی اپنے پیسے ویب سائٹ کے ذریعے ریفنڈ کر سکتے ہیں

ہماری منی بیک گارنٹی آپ کے چار خدشات کا تحفظ کرتی ہے
ابتدا کرنے سے لے کر مہارت تک
یہ کورس ابتدائی درجہ سے لے کر ایڈ وانس لیول تک مکمل ہے
درمیانی ذہانت کا آدمی یہ کورس کر سکتا ہے
ابتدائی درجہ سے ایڈوانس لیول اکٹھا ہونے کے باوجود درمیانی ذہانت کا آدمی اس کورس کو آسانی سے کر سکتا ہے
اگر عربی نہ بول سکے تو آپ کے پیسے واپس
یہ کورس مکمل کر کے عرب کے ساتھ روانی سے بات چیت نہ کرسکیں تو اپنے پیسے واپس لے لیں
اس کورس کے بعد سپوکن عربی کے کسی کورس کی ضرورت نہیں
جی ہاں! اس کورس کے کرنے کے بعد آپ کو سپوکن عرب کا کوئی کورس کرنے کی ضرورت نہیں
One on one, 180 days complete training plan
6 month training plan in 3600, costs only 600 monthly

1 on 1 on Zoom
On demand live classes!
You can also try the recorded course for 600 SAR only

Daily learning
In addition to classes, you will prepare upcoming lessons with the trainer through short videos

Free live support
After completing the course, you can ask for help for up to 6 months directly through WhatsApp

3600 SAR Only
Get 52% discount and pay only 3600 SAR instead of 7500 SAR for the complete training plan
میں کون ہوں؟ اور میں نے یہ کورس کیسے ترتیب دیا؟
السلام علیکم
میں سلطان ہوں، آپ کا عربی ٹرینر۔ میں آپ کو صرف 90 دنوں میں عربی بولنے کے قابل بناؤں گا
میرا نام سلطان ہے، اور مجھے عربی میں 28 سال کا تجربہ ہے اور میں نے عربی زبان میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے، اپنے سفر کے آغاز میں جب میں اسے سیکھ رہا تھا، میں نے اپنی یونیورسٹی میں اس کی مشق کرکے گرائمر کے لہجے میں روانی حاصل کی۔ اور مجھے عربی گرامر اور شاعری میں گہری دلچسپی تھی۔ مجھے اسی یونیورسٹی میں دو سال تک عربی ادب پڑھانے کا موقع ملا جہاں سے میں نے گریجویشن کی۔
Read More…
لہذا، جب میں نے پہلی بار مملکت سعودی عرب آنے کا سوچا، تو مجھے یقین تھا کہ مجھے لوگوں سے بات کرنے اور حالات سے نمٹنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن جیسے ہی میں یہاں پہنچا تو میں حیران رہ گیا، یہاں جو زبان بولی جاتی تھی وہ بالکل مختلف تھی اور میں ایسی حالت میں تھا کہ میں کسی کا ایک جملہ بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا اور میں جو کہنا چاہتا تھا اسے پہنچا نہیں پا رہا تھا کیونکہ مجھے مخصوص الفاظ اور لہجے کا علم نہیں تھا جو بولی جانے والی عربی میں استعمال ہوتے تھے۔
یہ سب باتیں میری عربی گرامر پر عبور رکھنے کے باوجود ہوئیں ۔ تو یہاں آپ بولی جانے والی عربی اور گرامر کے درمیان فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔
مملکت سعودی عرب میں، میں نے مقامی لوگوں کے لہجے کو سمجھنے میں ایک سال گزارا اور مجھے اس کو پہنچانے میں مزید پانچ سال لگے۔ اور یہ اس لیے ممکن ہوا کہ میری زندگی کے ۱۲ سال جیسا بڑا حصہ سعودیوں کے ساتھ گزرا۔ ان تمام لمبے سالوں میں میں اور میرا خاندان شہر سے دور رہ رہے تھے اور صرف ہم وہاں ایکسپیٹ تھے۔ اس لیے اس وقت مجھے ان کے ساتھ ان کے لہجے میں بات کرنی پڑتی تھی کیونکہ انہیں پڑھانا میرا کام تھا۔
پھر میں نے ۲۰۱۰ میں غیر ملکیوں کو عربی پڑھانا شروع کی اور اس وقت میں وہی پڑھا رہا تھا جو میں نے شروع میں سیکھا تھا، مطلب گرامر عربی جسے فصحا بھی کہا جاتا ہے۔
لیکن عربی پڑھانے کے اپنے پہلے سال میں میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو ایسی عربی کی ضرورت ہے جو وہ بازار میں، سڑک پر پولیس والوں کے ساتھ اور عرب ساتھیوں کے ساتھ سادہ گفتگو میں بول سکتے ہیں۔ فصحا پڑھنے اور لکھنے یا گرائمر کے طریقے کو سمجھنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے لیکن اس سے زیادہ نہیں۔
پھر میں نے غیر ملکیوں کو بول چال والی عربی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ بول چال والی عربی سکھانے کے لیے کوئی مواد دستیاب نہیں تھا۔ تو میں نے لوگوں سکھانا جاری رکھا اور اپنا مواد تیار کرنا شروع کیا۔
ہر چند ماہ، ہر بیچ کے دوران، میں نے لوگوں کی ضرورت کا مشاہدہ کیا کہ کن حالات میں کون سا جملہ اور لفظ ان کی ضرورت ہے، اور انہیں کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پھر میں نے ان ۱۲ سالوں میں جو کچھ سیکھا اس میں سے وہ جملہ یا لفظ چن کر ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی۔
فکری نصاب بنانے کا یہ عمل ۷ سے ۸ سال تک چلتا رہا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ میں لوگوں کو اس سطح کے قریب لانے کے قابل ہوں جہاں میں ۲۵ سالوں میں خود پہنچا۔
آخر میں میں یہ کہوں گا کہ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے کورسز آپ کو عربی میں سب کچھ پڑھنے اور لکھنے کے قابل بنائیں گے۔ لیکن، یہ آپ کی بولی جانے والی ضروریات کو پوری طرح سے پورا کریں گے اور پھر بھی، یہ آپ کے گرامر کی عربی کی بنیاد بن سکتا ہے اور آپ کو تقریباً 35 فیصد گرامر کے طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے۔
ہمارے طلباء اس کورس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟












کورس کی قیمت
ہمارے تمام کورسز تیس فیصد رعایت پر حاصل کریں! ڈسکاؤنٹ کوپن حاصل کرنے کے لیے ہمیں واٹساپ پر میسج کریں۔
فری کورس
مفت
Free
- مفت
- زندگی بھر رسائی
- لائیو کلاسز
- استاد سے ہر وقت رابطہ
- کورس کے بعد رہنمائی
- .
CHAT (Recorded)
60 ریال
بیس فیصد رعایت کے ساتھ
- اصل قیمت 75 ریال
- زندگی بھر رسائی
- لائیو کلاسز
- استاد سے ہر وقت رابطہ
- کورس کے بعد رہنمائی
- تیس دن تک پیسے واپسی کی ضمانت
SAFT (Recorded in Urdu/Hindi)
600 ریال
بیس فیصد رعایت کے ساتھ
- اصل قیمت 750 ریال
- زندگی بھر رسائی
- لائیو کلاسز
- استاد سے ہر وقت رابطہ
- کورس کے بعد رہنمائی
- تیس دن تک پیسے واپسی کی ضمانت
SAFT (Live)
3600 ریال
باون فیصد رعایت کے ساتھ
- اصل قیمت 7500 ریال
- زندگی بھر رسائی
- لائیو کلاسز
- استاد سے ہر وقت رابطہ
- کورس کے بعد رہنمائی (3 ماہ)
- نوے دن تک پیسے واپسی کی ضمانت
آپ کی باون فیصد رعایت ایک میسج کے فاصلے پر

آپ سے انتہائی مؤدبانہ گزارش ہے کہ
اگر آپ دی گئی معلومات پڑھ کر سمجھنے کی بجائے مجھے کال کرکے تفصیل پوچھنا چاہتے ہیں
اگر آپ ویب سائٹ پر دی گئی معلومات سے مطمئن نہیں ہیں
اگر آپ فری ڈیمو کلاس چاہتے ہیں
اگر آپ مزید ڈسکاونٹ چاہتے ہیں یا پیمنٹ انسٹالمنٹ میں کرنا چاہتے ہیں
تو اچھی طرح سے جان لیں کہ یہ کورس آپ کے لئے مناسب نہیں ہے براہ کرم ہمیں کال یا میسج نہ کریں
اور براہ کرم ہمیں اس وقت تک کال یا میسج نہ کریں جب تک کہ آپ واقعی کورس شروع کرنے کا ارادہ نہ کر لیں اور آپ کو کورس کی تمام تفصیلات سمجھ نہ آجائیں۔ اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔ شکریہ
یہ کورس کم ہمت اور غیر سنجیدہ افراد کے لیے نہیں
sincereksa@gmail.com
اگر آپ کسی شخص سے ایسی زبان میں بات کرتے ہیں جو وہ سمجھتا ہے، تو یہ بات صرف اس کے دماغ تک جاتی ہے۔ اگر آپ اس شخص سے اس کی اپنی زبان میں بات کرتے ہیں تو یہ بات اس کے دل میں اتر جاتی ہے- نیلسن منڈیلا
اگر آپ سعودی عرب میں آسانیوں کی تلاش میں ہیں تو ہم مقامی لوگوں کے دلوں تک پہنچنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔